آسکر وائلڈ کے نام E-mail
Written by Hadi Hussain   
Thursday, 01 July 2010 00:00


آج ایک بار پھر
مجھ سے میری شناخت کی بابت
دریافت کی گئی ہے
گویا مجھ سے میرے ہونے کی
گواہی مانگی گئی ہے
اور میں خود پر آئد فردِ جرم
کو سن کر اب
بیٹھا سوچ رہا ہوں
کہ کیسے خود کا دفاع کروں
کیونکہ جواب بہت طویل ہے
یا یوں کہو کہ
میری کہانی بہت پرانی ہے
جس میں نہ تو کسی راجا کو رانی ے ملنا تھا
اور نہ ہی کسی چڑیل کو پری سے جلنا تھا
یہ تو فقط حقیقت ہے
میری حقیقت
جو کہ دلچسپ نہ سہی
مگر سچی ضرور ہے
ماضی کی سڑک پر جب چلنا شروع کرتا ہوں تو
مچھے بچپن کے وہ معصوم دن نظر آتے ہیں
جب تتلیوں، جگنوؤں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے
مجھے خبر ہی نہ ہوئی کہ
یہ کام میرے کرنے کے نہیں تھے
میرے لیے تو موزوں کچھ اور ہی کھیل تھے
جو کبھی مجھے راس ہی نہ آئے
میرے لڑکپن کی وہ شامیں
جب میں کھلے آسمان تلے
گھنٹوں بیٹھا بھیتر کی گتھلیاں
سلجھانے کی کوشش کرتا رہتا تھا
مگر وہ کبھی بھی سلجھ نہ سکیں
پھر وہ نوجوانی کی راتیں بھی آئیں
جب میں لمبے لمبے سجدوں میں
خود آگاہی کے واسطے
اس کا در کھٹکھٹاتا رہتا تھا
جس کے بارے میں مشہور ہے
کہ وہ سب کی سنتا ہے
میں عفوانِ شباب کی حدٔت کا مارا
بے صبرا انسان اُس سے
لڑتا، جھگڑتا، کُڑتا، مرتا رہتا
اور بھلا کر بھی کیا سکتا تھا
شب و روز اسی ضد میں کٹنے لگے
مگر اندر کی آگ تھی کہ
کسی طور بُجھتی ہی نہ تھی
مگر جب میرا سارا وجود جل کر خاکستر ہوا
اور مٹھی بھر خاک میرے ہاتھ آئی
تب یہ عقد مجھ پہ کھلا
کہ یہی خاکِ شفا تو مجھے درکار تھی
اور پھر میں نے سچ بولنے کا فیصلہ کر لیا
میں چاہتا تو اپنی جبلت کو جھوٹ کے
رنگین پیراہنوں میں چھپا لیتا
اُن سُرخاب کے پروں کا تاج سر پہ سجا لیتا
جو مجھے سب میں مقبول کر دیتے
مگر میں ایسا نہ کر سکا
کیونکہ میرے خمیر میں
سچ کی مقدار کچھ زیادہ ہی تھی
سچ ـ ـ ـ جس کا راستہ بڑا کٹھن ہے
جس پر چلنے سے تن پر سنگ باری بھی ہوتی ہے
اور پیروں میں آبلے بھی پڑتے ہیں
مگر مجھے کوئی خوف نہ رہا تھا
مجے معلوم ہے کہ
رذدیلوں اور دھتکارے ہوؤں کو
بولنے کا حق بھی نہیں ملتا
مگر میں پھر بھی اتنا ضرور کہوں گا
کہ میری تخلیق بھی اُسی نے کی ہے
جس نے باقی سب کو بنایا ہے
آج بے شک میں ایک سوال ہوں
موردِ الزام ہوں، حسرت و ملال ہوں
مگر مجھے اتنا یقین ہے کہ
جب بھی اس کا انصاف ہو گا
میرا شمار ہو گا
میرا شمار ہو گا ـ ـ ـ

Hadi Hussain -
This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it blog twitter


More articles by this author

Walking the LineWalking the Line
Every society is an accumulation of certain norms and belief...
Read More >>
A Gay of No ImportanceA Gay of No Importance
It has been an audacious and difficult decision for me...
Read More >>
 
Comments (2)
1 Monday, 05 July 2010 17:22

Commendable. The way you have moulded your thoughts and feelings in these beautiful words is highly remarkable.

2 Tuesday, 17 August 2010 11:16
Hadi Hussain

Thanks Hira for your appreciation.

discount oem software